حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قرآن کریم کے مفسر حجتالاسلام والمسلمین قرائتی نے مدرسہ علمیہ فاضلیہ مشہد میں منعقدہ علمی نشست "تبلیغی تجربات کی منتقلی" میں زندگی کے تمام مراحل اور تبلیغی سرگرمیوں میں خدا سے توسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: انسان کو اپنے کام کے آغاز، دوران اور انجام میں خدا سے جڑا رہنا چاہیے۔ تمام دعاؤں میں صرف ایک واجب دعا "اہدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" ہے جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نماز شب میں یہ دعا دوسروں سے زیادہ دہراتے تھے اور یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کے نبی کو بھی اپنے پروردگار سے مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صراط مستقیم پر بتاتا ہے لیکن اس کے باوجود بار بار ہدایت مانگنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام انسان، یہاں تک کہ خاص لوگ بھی، خدا سے مدد کے محتاج ہیں۔ یہ مدد مانگنا وہی حقیقت ہے جو "بسم اللہ" میں پوشیدہ ہے یعنی انسان بسم اللہ کہہ کر خدا کی طاقت، علم اور مہربانی کو تسلیم کرتا ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین قرائتی نے دین کی تبلیغ میں خلوصِ نیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں یہ کام نہیں سونپا گیا کہ ہمارا منبر بھرا رہے یا لوگ ہمارا استقبال کریں بلکہ ہم صرف اپنا فرض ادا کرنے کے پابند ہیں۔ آیت اللہ بہاء الدینی نے مجھے تاکید کی تھی کہ "اگر ایران کے تمام لوگ تمہارے خطاب میں بیٹھیں لیکن تمہاری نیت خالص نہ ہو تو تم خالی ہاتھ رہو گے"۔
قرآن کریم کے اس مفسر نے مزید کہا: نیت اس طرح ہے جیسے نوٹ میں دھاگہ؛ اگر یہ دھاگہ نہ ہو تو نوٹ کی قیمت ختم ہو جاتی ہے۔ دینی کاموں میں بھی اگر اخلاص نہ ہو تو عمل اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ انسان کی نیت خالص ہونی چاہیے۔ جیسے کوئی کنواں کھودتا ہے تو اسے مٹی بھی ملتی ہے لیکن اصل مقصد پانی ہوتا ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین قرائتی نے منبروں میں قرآن پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: نبی کریم کی پریشانیوں میں سے ایک یہ تھی کہ قرآن کریم کو لوگوں میں ترک نہ کر دیا جائے۔ بہت سے منبروں پر شاعری، کہانیاں، تاریخ اور مختلف تجزیے پیش کیے جاتے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی شخص تقریر ختم ہونے کے بعد یہ کہے کہ آج میں نے قرآن کی ایک آیت کا مطلب سمجھا۔
انہوں نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے گفتگو کرنے کے انداز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تاریخ میں امیرالمؤمنین علی سے بڑا خطیب نہیں گزرا لیکن ان کی گفتگو کا بڑا حصہ مختصر الفاظ اور چھوٹی حکمتوں پر مشتمل ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کم بولا جائے لیکن مفید بات کہی جائے۔
حجتالاسلام والمسلمین قرائتی نے کہا: فرصتون اور مواقع کی قدر کرنی چاہیے اور ہر لمحے کو خدمت، تبلیغ، اخلاق اور تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر دینی مدارس اور طلبہ اکٹھے ہو جائیں تو وہ معاشرے کی روحانی و معنوی حالت کو مضبوط کر سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ